27

عالمی ماہرین کا بھارت میں 20 کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کے خطرے کا اظہار

عالمی ماہرین نے بھارت میں 20 کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کے خطرے کا اظہار کردیا۔

واشنگٹن میں انڈین امریکن مسلم کونسل کے زیر اہتمام نسل کشی اور بھارت کے مسلمانوں کے 10 مراحل کے موضوع پر مباحثہ ہوا جس میں نسل کشی پر نظر رکھنے والے ادارے ’جینو سائڈ واچ‘ کے سربراہ پروفیسر گریگوری اسٹانٹون کا کہنا تھا کہ بھارت میں انسانیت کیخلاف منظم جرائم کا سلسلہ جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر اور آسام میں مسلمانوں پر ظلم ان کے قتل عام سے پہلے کا مرحلہ تھا اوربابری مسجد کو گرانا اور مندر تعمیر کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت مسلمانوں پر ظلم کے ساتھ ساتھ ان کی معاشی صورتحال کو بدتر کر رہا ہے اور مسلمانوں کے انسانی اور آئینی حقوق سے بھی انکار کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دہلی فسادات میں پولیس نے سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا اور ان پر اپنے خلاف ہی تشدد کا الزام لگایا۔

ماہر انسانی حقوق تیستا سیتلواڈ نے کہا کہ بھارتی مسلمان مستقل خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، گائے کا گوشت فروخت کرنے کے جھوٹے الزامات پر ہجوم انہیں تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔

ماہر انسانی حقوق ڈاکٹر الیاس کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار بھارت اپنی 14 فیصد آبادی کو دبارہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت  کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہی بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے، کبھی گاؤ رکشا کے نام پر تو کبھی ’لو جہاد‘ کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے۔



Source link

0/5 (0 Reviews)
کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں