38

دنیا کا بدترین کھانا لندن میں ملتا ہے؟ –

پاکستان کے باسی روشن مستقبل کی خاطر لندن اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن خواجہ احمد عباس نے لندن کی سیر کرنے کے بعد اپنے سفر نامے میں جو کچھ لکھا اسے پڑھ کر آپ تذبذب کا شکار ہو سکتے ہیں۔

کہنہ مشق صحافی، ادیب اور  فلم ساز خواجہ احمد عباس نے 17 ملکوں کے مختلف ممالک کی سیرکی تھی اور لندن میں بھی قیام اور  سیروسیاحت کا لطف اٹھایا تھا، یہ 1938 کی بات ہے. خواجہ احمد عباس نے اس زمانے میں لندن سے متعلق اپنے تجربات اور مشاہدات کو سفرنامے کی شکل دی تو لکھا کہ لندن کو دنیا کے بدترین کھانوں کا مرکز کہا جاسکتا ہے۔

انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ یہاں صبح و شام ابلے ہوئے گوشت، ابلے ہوئے آلو اور ابلی ہوئی گوبھی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ بہترین کھانا صرف ہندوستانی ہوٹلوں میں ملتا ہے۔

اپنے سفر نامے میں شگفتہ بیانی کرتے ہوئے خواجہ احمد عباس نے مزید لکھا ہے۔

صفائی پسند انگریز دن میں صرف ایک بار منہ دھوتے ہیں اور ہفتے میں ایک بار نہاتے ہیں۔ اخبارات میں زیادہ تر خبریں قتل، ڈاکے اور بدکاری کے متعلق ہوتی ہیں۔ ہر قتل کی واردات کی تفصیل شایع کی جاتی ہے اور ہندوستان کی اہم ترین خبر ایک دو سطروں میں ٹال دی جاتی ہے۔

خواجہ احمد عباس کو 1938 میں 17 ملکوں کی سیاحت کا موقع ملا تھا جس کے بعد ہندوستان واپسی پر انھوں نے ان ملکوں میں قیام اور سیاحت کی روداد کو شگفتہ پیرائے میں رقم کیا۔ اس سفر نامے کو مصنف کے قلم کی روانی، اسلوب کی انفرادیت اور سادہ پیرایۂ اظہار کی وجہ سے بہت پسند کیا گیا۔

Comments

comments



Source link

0/5 (0 Reviews)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں