23

جب شاعرِ مزدور نے جمعداروں کی نگرانی کرنے کا ارادہ کیا!

احسان دانش اردو ادب کی ان چند شخصیات میں سے ہیں جن کا فن اور فکر آسودہ حالی، معاشی بے فکری کے ساتھ نظم کی شکل میں نہیں ڈھلا بلکہ اس کی آب یاری زندگی کی تلخیوں، مصائب، کڑے حالات اور معاشی تگ و دو نے کی۔

احسان دانش نے زندگی کے کئی اتار چڑھاؤ اور روپ دیکھے۔ کبھی مزدوری کی، مالی بن کر کسی گلستاں کو سنوار تو پیٹ کی خاطر چپراسی اور قاصد کی ذمہ داری نبھائی۔ غرض کوئی بھی کام ملا کر لیا۔ لیکن اس محنت اور کڑی مشقت کے ساتھ ان کا تخلیقی سفر بھی جاری رہا۔

احسان دانش کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھوں نے جمعدار بننے تک کا سوچا اور صفائی ستھرائی کے اس کام سے وابستہ لوگوں کی نگرانی اور ان سے کام لینے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہو گئے۔

اردو زبان کے اس خوب صورت شاعر کی زندگی صبح سے رات تک محنت مشقت کرنے اور اگلے دن پھر معاش کی فکر میں گزر جاتی۔ احسان دانش نے محنت سے کبھی منہ نہ موڑا اور حالات کا مقابلہ کرتے رہے۔

معروف ادیب اور باکمال خاکہ نگار اعجاز الحق قدوسی نے اپنی کتاب میں مزدو احسان دانش کو درویش صفت، قناعت پسند اور بڑے دل کا مالک لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
احسان دانش مجموعۂ خوبی ہیں۔ پیکرِ شرافت ہیں۔ پرانی وضع داریوں کا نمونہ ہیں۔ قناعت کی دولت سے مالا مال ہیں۔ فن کا پندار ان میں بالکل نہیں۔ زندگی محنت کی عظمت سے بھرپور ہے اسی لیے شاعرِ مزدور کہلاتے ہیں۔

احسان دانش عوامی شاعر اور باکمال انشا پردار کی حیثیت سے آج بھی اردو ادب کی تاریخ میں زندہ ہیں۔ بیسویں صدی کے اس مقبول ترین شاعر کا کلام انقلاب آفریں نغمات، عوامی جذبات کی ترجمانی اور رومان پرور خیالات سے آراستہ ہے۔ احسان دانش کا ایک شعر ہے۔

احسان اپنا کوئی برے وقت میں نہیں
احباب بے وفا ہیں، خدا بے نیاز ہے

Comments

comments



Source link

0/5 (0 Reviews)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں